بنگلورو،4؍فروری(ایس او نیوز) شہر کے جئے نگر جنرل اسپتال کے احاطہ میں بچوں کے مبینہ اغوا کے واقعہ کو وزیر صحت رمیش کمار نے غیر انسانی قرار دیااور کہاکہ سرکاری اسپتالوں کو بدنام کرنے کی منظم سازش کے تحت یہ حرکت کی گئی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر موصوف نے بچی کی گمشدگی کے متعلق اس بچی کے باپ کی طرف سے دی گئی اطلاع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بچی کے اغوا کی اطلاع سے انہیں بہت دکھ ہوا ہے ۔ آئندہ اس طرح کا واقعہ نہ ہونے پائے، یہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اسپتال میں سیکورٹی کیلئے تین شفٹوں میں گارڈس تعینات ہیں ،آئندہ یہاں گارڈوں کی تعداد کو بڑھا یا جائے گا۔ وزیر موصوف نے کہاکہ جئے نگر اسپتال کے احاطہ میں موجود راجیو گاندھی ہیلتھ یونیورسٹی اب رام نگرم منتقل ہوچکی ہے، اسی لئے یونیورسٹی کی جو بھی عمارت ہے اسے استعمال کرتے ہوئے جئے نگر جنرل اسپتال کو ایک سوپر اسپیشالٹی اسپتال میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس دوران جئے نگر اسپتال میں بچی کے اغوا کے متعلق جاری تحقیقات میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی ہے، تاہم بتایاجاتاہے کہ پولیس کو اس سلسلے میں اسپتال کی تین نرسوں تپما ، رادھا اور نلیناکشی پر شبہ ہے۔ بتایاجاتاہے کہ یہ تینوں پچھلے ایک سال سے کنٹراکٹ کی بنیاد پر بحیثیت نرس کام کررہی ہیں، شاید یہ تینوں ہی اسپتال سے نو زائدہ بچوں کو چراکر فروخت کیا کرتی ہیں۔ ہاسن کے تیاگراج کی بیوی سہانا شری نے 29؍ جنوری کو جڑواں بچوں کو جنم دیا۔ ان میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی، لڑکی کو یرقان ہوگیاتھا، جس کی وجہ سے یہ بچی آئی سی یو میں رکھی گئی تھی۔ دو گھنٹے میں ایک مرتبہ بچی کو ماں کے حوالے کیاجاتاتھا، لیکن جمعہ کی دوپہر سے یہ بچی غائب ہے۔ شبہ کیاجارہاہے کہ اسپتال کے عملہ نے اس بچی کو غائب کیا ہے، بچی کو کسی اور کے حوالے کردیا گیاہے، جس کا منظر اسپتال کے سی سی ٹی وی میں قید ہے۔تلک نگر پولیس نے اس سلسلے میں کارروائی شروع کردی ہے۔